غزل 18 اشعار

نہ روتا زار زار ایسا نہ کرتا شور و شر اتنا

Na rota zaar zaar aisa na karta shor-o-shar itna

نہ روتا زار زار ایسا نہ کرتا شور و شر اتناالٰہی کیا کروں درد جگر اتنا جگر اتنا

بلانے کے طریقے سے بلایا کیجیے ہم کورہے ملحوظ خاطر کم سے کم بار دگر اتنا

وہ جتنا مجھ سے ملتے ہیں اسی ملنے میں خوبی ہےکسی سے بھی ملے تو بس ملے ہر اک بشر اتنا

ترے ساتھ آج کیسے کیسے ظالم یاد آئے ہیںنہ روئے تھے نہ روئیں گے کبھی ہم عمر بھر اتنا

وہی لوگ آپ کے نزدیک سچے عاشقوں میں ہیںکہ جن کی آنکھ میں آنسو نہیں ہے شور و شر اتنا

بڑے بھولے ہیں کیا دنیا میں بھولے ایسے ہوتے ہیںانہیں میں کیا سمجھتا ہوں نہ سمجھے عمر بھر اتنا

نہیں معشوق تو پھر کیا بلا ہیں کوئی آفت ہیںنیا غصہ ہے ان کا آج اتنی بات پر اتنا

وہ مجھ سے کس لئے ملتے ہیں کیا معلوم لوگوں کوسمجھتے ہوں گے سب ان پر بھی ہے اس کا اثر اتنا

ترے عاشق کی صورت اب تو پہچانی نہیں جاتیستاتے ہیں بھلا اس طرح ایسا اس قدر اتنا

کسی صورت یہ شان دلبری دیکھی نہیں جاتیمری آنکھیں بھی لے جا اور اک احسان کر اتنا

کسی کو اپنی بربادی کا باعث کیا بتائیں ہممحبت ہے بری شے جانتا ہے ہر بشر اتنا

لٹیروں کی بن آئے مجھ کو شادی مرگ ہو جائےکہا تھا کس نے اے داتا مرے دامن کو بھر اتنا

ذرا بہر خدا انصاف کر اور بھولنے والےتغافل شیوۂ معشوق ہوتا ہے مگر اتنا

نہیں ہے بے خودی ہی کی تمنا ہم کو اے ساقیترے مستوں کا صدقہ کچھ ذرا سا گھونٹ بھر اتنا

عدو ہم سے تمہارے ظلم کا شکوہ نہیں کرتےدکھاتے ہیں کہ دیکھو ہم بھی رکھتے ہیں جگر اتنا

مجھے جینے سے تم مایوس ناامید ہی رکھوتسلی دو مگر اتنی دلاسا دو مگر اتنا

دیا خط ان کو لیکن کب دیا جب تھے وہ غصے میںنہ سمجھا تھا پیامی کی سمجھ اتنی ہے سر اتنا

صفیؔ کیوں قدر کا طالب ہوا ہے اس زمانے میںارے کم بخت تیرے پاس کب ہے مال و زر اتنا

— صفی اورنگ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں