غزل 15 اشعار

اب نہ وہ ہم ہیں نہ وہ پیار کی صورت تیری

Ab na woh hum hain na woh pyaar ki soorat teri

اب نہ وہ ہم ہیں نہ وہ پیار کی صورت تیرینہ وہ حالت ہے ہماری نہ وہ حالت تیری

دیکھ لی دیکھ لی بس ہم نے طبیعت تیریہو نہ دشمن کے بھی دشمن کو محبت تیری

کیا غرض اس سے ہو دشمن پہ عنایت تیریہم تو جیتے ہیں فقط دیکھ کے صورت تیری

یہ بھی آ جاتی ہے جب دیکھ لی صورت تیریسچ ہے الفت نہیں منہ دیکھے کی الفت تیری

ترک الفت ہی نہیں قطع تعلق بھی کیاپھر بھی جاتی نہیں ظالم یہ محبت تیری

دخل ہوگا نہ کبھی جس میں گنہ گاروں کاہوگی اے واعظ کج فہم وہ جنت تیری

چاہنے والوں کا ہنگامہ کسی دن ہوگاایک دن تجھ کو رلائے گا یہ صورت تیری

یہ تڑپ یہ تری فریاد یہ حسرت اے دلکاش آ جائے مری جان پہ آفت تیری

پہلے کچھ اور ہی تیور تھے یہ تیور تیرےپہلے کچھ اور ہی صورت تھی یہ صورت تیری

دیکھنے والوں کی اک بھیڑ رہا کرتی تھیاف رے وہ حسن ترا ہائے وہ صورت تیری

اس پہ حیرت ہے بڑی مجھ کو تعجب ہے بہتغیر پھر غیر کے دل میں ہو محبت تیری

آدمی کی تجھے پہچان نہیں اے ظالمہم تو کرتے ہیں ترے منہ پہ شکایت تیری

تجھ کو دلبر جو بنایا تو بنایا ہم نےورنہ معلوم ہے دنیا کو حقیقت تیری

جان دے دی نہ اگر میں نے تو کچھ بھی نہ کیاآپ کہتے ہی رہیں کیا ہے حقیقت تیری

چین آتا ہی نہ تھا تجھ کو حسینوں کے بغیراے صفیؔ کیا ہوئی اگلی وہ طبیعت تیری

— صفی اورنگ آبادی