غزل 13 اشعار

دل عشق میں تباہ ہوا یا کہ جل گیا

Dil ishq mein tabaah hua ya ke jal gaya

دل عشق میں تباہ ہوا یا کہ جل گیااچھا ہوا خلش گئی کانٹا نکل گیا

الفت میں اس کی جان گئی دل بھی جل گیادشمن کا دو ہی دن میں دوالہ نکل گیا

دل اپنا اس سے مانگنے کو میں جو کل گیاآنکھیں نکالیں لڑنے کو فوراً بدل گیا

جلتے ہیں غیر اپنا تو مطلب نکل گیاقسمت سے بات بن بھی گئی داؤ چل گیا

تعریف حسن یار نے اس کو کیا رقیبرہبر بھی بیچ رستے میں ہم سے بدل گیا

کرتا ہوں عرض ان سے جو چلنے کی میں کہیںکہتے ہیں کیا دماغ تمہارا بھی چل گیا

بھاری ہے رات ہجر کی بیمار پر ترےپھر اس کو خوف کچھ نہیں یہ دن جو ٹل گیا

دشمن کے نقش پا کو جو دیتے ہو گالیاںپیٹو لکیر سانپ تو آیا نکل گیا

کس رنگ میں وہ رہتے ہیں اس کی خبر نہیںمحفل میں ان کی آج میں پہلے پہل گیا

ارمان کیا گئے کہ گیا دل بھی عشق میںیہ وہ جوا ہے جس میں ہمارا مدل گیا

وہ جلوہ گاہ ناز ہو یا بزم غیر ہوجنت ہمیں وہیں ہے جہاں دل بہل گیا

دشمن بھی جاں نثار بنے دے کے اپنا دلحیرت ہے مجھ کو روپیہ کھوٹا بھی چل گیا

انجام عشق دیکھ لیا اپنی آنکھ سےاب تو صفیؔ دماغ کا تیرے خلل گیا

— صفی اورنگ آبادی