غزل 14 اشعار

کسی دن تو ہمارا درد دل سوز جگر دیکھو

Kisi din to hamara dard-e dil soz-e jigar dekho

کسی دن تو ہمارا درد دل سوز جگر دیکھوکبھی تو بھول کر آؤ کبھی تو پوچھ کر دیکھو

نہ دیکھو دوست بن کر تم تو دشمن کی نظر دیکھوخفا ہو کر بگڑ کر روٹھ کر دیکھو مگر دیکھو

نہیں بھرتی طبیعت لاکھ دیکھو عمر بھر دیکھوخدا کی شان ہے ایسے بھی ہوتے ہیں بشر دیکھو

کسی کو جب سے دیکھا ہے دکھائی کچھ نہیں دیتاہوئی میری نظر کو دوستو کس کی نظر دیکھو

ترستی ہیں یہ آنکھیں دیکھنے کو دل تڑپتا ہےزیادہ سے زیادہ مختصر سے مختصر دیکھو

مقدر سے نبھی تم ایک گویا بھولے بھالے تھےکوئی ظالم سے ظالم فتنہ گر سے فتنہ گر دیکھو

کہی ہیں ہم نشینو دل لگی میں تم نے جو باتیںانہیں سچ مچ پہنچ جائے نہ یہ جھوٹی خبر دیکھو

پھر اس پر نکتہ چیں ہے نکتہ داں ہے شیخ لوگوں میںاناڑی پڑھ رہا ہے دخت رز کو دخت زر دیکھو

کوئی بیتاب کوئی مست کوئی چپ کوئی حیراںتری محفل میں گویا اک تماشا ہے جدھر دیکھو

تمہاری بزم بات انسانیت کی پھر رقیبوں میںبھرے ہیں آدمی کی صورتوں کے جانور دیکھو

نہ ہو جو بندہ پرور بندگی کو بندگی اس کیجناب دل خدا رزاق کوئی اور گھر دیکھو

نہیں از روئے قانون محبت جرم نظارہتو پھر کیوں ہیں جناب دل اگر دیکھو مگر دیکھو

اسے دیکھا ہے جس کے دیکھنے کو لوگ مرتے ہیںنظر بازو ہماری بھی ذرا حد نظر دیکھو

صفیؔ کو شاعری سے مل گئی ہر دل عزیزی بھیدروغ مصلحت آمیز بھی ہے کیا ہنر دیکھو

— صفی اورنگ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں