غزل 21 اشعار

اے دل نہ عقیدہ ہے دوا پر نہ دعا پر

Ae dil na aqeeda hai dawa par na dua par

اے دل نہ عقیدہ ہے دوا پر نہ دعا پرکم بخت تجھے چھوڑ دیا ہم نے خدا پر

اس طرح سنی عشق میں ناصح کی ہر اک باتپرہیز کیا کرتے ہیں جس طرح دوا پر

اب تک تو کبھی بے مے و معشوق نہ گزریآئندہ رضامند ہوں مالک کی رضا پر

اتنے تو گنہ گار ہیں بدنام محبتآنکھیں تو ملی ہیں ترے نقش کف پا پر

دل لینے کے انداز کا کچھ نام نہیں ہےموقوف ہے یہ چیز ادا پر نہ حیا پر

اللہ مجھے کم سے کم اتنا تو بنا دےایک ایک تو دل دوں تری ایک ایک ادا پر

دیکھیں ترے کوچے کی ذرا آب و ہوا بھیچلتے ہیں جو پانی پہ جو اڑتے ہوا پر

آج آپ کو دیکھا مگر اب تک تو سنا تھاقائل نہیں ہوتا کبھی انسان خطا پر

معلوم نہیں کون سی مٹی سے بنے ہیںوہ لوگ جو غش ہیں ترے نقش کف پا پر

ہم اپنے خیالات کی اصلاح کریں گےکوشش تو بہت کی ہے بھروسہ ہے خدا پر

ہوتا ہوں تری شان کریمی کے تصدقمرنے کے لئے ہوتے ہیں چیونٹی کو عطا پر

اے دوست فراموش یہ ہے حال ہماراآمین کہا کرتے ہیں دشمن کی دعا پر

کیا آہ سے ارمان نکلتے ہیں کسی کےپل باندھتے ہیں باندھنے والے تو ہوا پر

تکلیف ہمیشہ دل خود سر نے اٹھائیآئی ہیں بلائیں بہت اس ایک بلا پر

اللہ نے کیا کیا ترے منہ سے نہ سنایاہم شکر بھی کرتے ہیں شکایت کی بنا پر

تاکا تھا مجھے اور چھدا غیر کا سینہاے واہ نکالے ہیں ترے تیر نے کیا پر

عاشق ہوں تو کیا آپ کی صحبت میں رہا ہوںہنسنا ہی پڑے گا مرے رونے کی ادا پر

وہ کون ہیں میں کون ہوں کیا منہ سے نکالوںمنصور کو سولی ملی ایسی ہی خطا پر

ایسے ترے عاشق کبھی دیکھے نہ سنے تھےپہرے تو بٹھائے نہیں نقش کف پا پر

عشاق سے بھولے کہیں دیکھے بھی ہیں تم نےمر مٹتے ہیں یہ لوگ فقط نام وفا پر

تم سے تو صفیؔ نے فقط اک ڈھونگ کیا ہےکھاتا ہے نہ پیتا ہے تو جیتا ہے ہوا پر

— صفی اورنگ آبادی