غزل 12 اشعار

وہی ہوتا ہے جو محبوب کو منظور ہوتا ہے

Wohi hota hai jo mahboob ko manzoor hota hai

وہی ہوتا ہے جو محبوب کو منظور ہوتا ہےمحبت کرنے والا ہر طرح مجبور ہوتا ہے

جہاں جاتے ہیں ہم اس کی گلی سے ہو کے جاتے ہیںاگرچہ راستہ اس راستے سے دور ہوتا ہے

نہیں رکتے گھڑی بھر طالب دیدار کے آنسویہ ظالم شوق گویا آنکھ کا ناسور ہوتا ہے

کوئی مجنوں کی عزت عشق کی سرکار میں دیکھےبڑی خدمت پہ ایسا آدمی مامور ہوتا ہے

حسینوں کا تنزل بھی نہیں ہے شان سے خالیبڑھاپے میں بھی ان لوگوں کے منہ پہ نور ہوتا ہے

وہ ایسی خندہ پیشانی سے ہر معروضہ سنتے ہیںیہ سمجھے عرض کرنے والا اب منظور ہوتا ہے

تجھے مشہور ہونا ہو تو عاشق کی برائی کربرائی سے بہت جلد آدمی مشہور ہوتا ہے

ہمارے گھر وہ آ کر تھک گئے ہاں کیوں نہ تھک جاتےنیا رستہ جو ہو نزدیک بھی تو دور ہوتا ہے

جو تم وابستۂ دامن کو سمجھے داغ بدنامیتو اب کیا دور کر سکتے ہو اب یہ دور ہوتا ہے

بڑا احسان ہوگا میرے دل کا خون کر ڈالویہی مجبور کرتا ہے یہی مجبور ہوتا ہے

مجھے تم جانتے ہو عقل سے معذور ہاں بے شکمحبت کرنے والا عقل سے معذور ہوتا ہے

حسین ہر ایک ہو سکتا نہیں بے شک صفیؔ بے شکوہی ہوتا ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے

— صفی اورنگ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں