غزل 7 اشعار

جب ترا انتظار ہوتا ہے

Jab tera intezar hota hai

جب ترا انتظار ہوتا ہےدل بہت بے قرار ہوتا ہے

دل پہ چلتا ہے اختیار ان کاجب یہ بے اختیار ہوتا ہے

عشق ہوتا ہے حسن کا ہم سرجب یہ خود اختیار ہوتا ہے

وہ مجھے بے قرار کرنے کوپہلے خود بے قرار ہوتا ہے

حرص شہرت نہیں تو رونا کیوںنالہ بھی اشتہار ہوتا ہے

دوست کہہ کر نہ دے فریب اے دوستدوست پر اعتبار ہوتا ہے

نازنیں ہیں کب ایسے لوگ صفیؔجن کا احسان بار ہوتا ہے

— صفی اورنگ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں