غزل 8 اشعار

بد گماں کیا قبر میں ارماں ترے لے جائیں گے

Bad gumaan kya qabr mein armaan tere le jayein ge

بد گماں کیا قبر میں ارماں ترے لے جائیں گےہم اکیلے آئے ہیں جیسے اکیلے جائیں گے

کس قدر ثابت قدم ہیں رہ روان کوئے دوستجائیں گے پھر ان کی کوئی جان لے لے جائیں گے

حضرت دل اور پھر جائیں نہ اس کی بزم میںجھڑکیاں دے لے کوئی الزام دے لے جائیں گے

تم ستا لو مجھ کو لیکن یوں نہ ہر اک سے ملوظلم سہہ لوں گا مگر صدمے نہ جھیلے جائیں گے

اس گلی میں ڈال دو تا سنبھلیں ٹھوکر کھا کے غیریوں بھی اک دن خاک میں آنکھوں کے ڈھیلے جائیں گے

ہے دعاؤں کا اثر سنگ حوادث ہی اگراپنے ہاتھوں پھر تو یہ صدمے نہ جھیلے جائیں گے

خیر خواہوں راز داروں کی بہت نیت دیکھ لیآج سے ہم اس کی محفل میں اکیلے جائیں گے

بے کسی میں کون کس کا ساتھ دیتا ہے صفیؔملنے والے ہیں تماشے کے یہ میلے جائیں گے

— صفی اورنگ آبادی