غزل 12 اشعار

اتنے تو ہم خیال دل مبتلا ہیں ہم

Itne to ham khayal-e dil-e mubtala hain hum

اتنے تو ہم خیال دل مبتلا ہیں ہمکل جس سے خوش تھے آج اسی سے خفا ہیں ہم

تجھ سے جدا نہیں ہیں جو تجھ سے جدا ہیں ہمتیرے ہی ہیں اگرچہ ترے نقش پا ہیں ہم

کہتے ہیں ہم کو نیک بھی بد بھی ہزار ہااس کی خبر نہیں ہے کہ دراصل کیا ہیں ہم

رتبہ بڑھا دیا ہے جنون فراق نےہم سے جدا ہیں آپ تو سب سے جدا ہیں ہم

تاثیر اشک و آہ نے بدلا نہیں مزاجمدت ہوئی کہ شاکیٔ آب و ہوا ہیں ہم

لاکھوں جفائیں سہہ کے اب آیا ہے یہ خیالملتے ہی کیوں ہیں اس سے جو بے مدعا ہیں ہم

وہ یاس بن گئی جو زمانے کی آس تھیآزردہ آج اپنے سے بے انتہا ہیں ہم

جمتا ہے اپنے ذکر سے اب محفلوں کا رنگرہتے ہیں اپنے گھر میں مگر جا بجا ہیں ہم

کیا کیا عنایتیں ہیں بس اے چرخ پیر بستیرا تصدق اب بھی کسی سے جدا ہیں ہم

اب اتفاق اہل وفا تم کو کیا دکھائیںمحشر میں دیکھنا کہ یہ سب ایک جا ہیں

منظور امتحان دل عشق باز ہےاب اپنے واسطے بھی تو صبر آزما ہیں ہم

اس پر مٹے ہوئے ہیں مٹاتا ہے جو صفیؔدشمن کی گا رہے ہیں بڑے خوش نوا ہیں ہم

— صفی اورنگ آبادی