غزل 12 اشعار

بنے ہو خاک سے تو خاکساری ہو طبیعت میں

Bane ho khaak se to khaaksari ho tabiat mein

بنے ہو خاک سے تو خاکساری ہو طبیعت میںطبیعت ایسی بنتی ہے تو بنتی ہے محبت میں

بہائے جاؤ آنسو عمر بھر اس کی محبت میںکہ ایسے لوگ موتی کے محل پاتے ہیں جنت میں

کہا حاضر میں کچھ حجت نہیں پھر مدعا پوچھاستم گر نے پلٹ دی بات اب حاضر ہے حجت میں

کسی سے اپنے حق میں کچھ سنا بھی ہے تو جانے دوبرا تو بادشاہ کو بھی کہا کرتے ہیں غیبت میں

محبت کی ذرا سی بات پر اتنے خفا کیوں ہوہوا کرتی ہیں آخر سیکڑوں باتیں محبت میں

نہیں لا سکتا ہر اک کوہ کن فرہاد کی قسمتخدا بخشے بڑا انسان گزرا چھوٹی امت میں

تری ہر ایک تصویر اک ادائے خاص رکھتی ہےکرے کیا فرق اب کوئی ضرورت اور زینت میں

یہ کیا سائل کے منہ پر توڑ کر ٹکڑا سا رکھ دیناارے بندے خدا کو منہ دکھانا ہے قیامت میں

جو بدلے دوست کا بھیس اس کو دشمن کس طرح جانوںگیا حضرت کلیم اللہ کا نقال جنت میں

محبت بے اطاعت ایک دھوکہ ہے محبت کامحبت کا جو دعویٰ ہے تو کوشش کر اطاعت میں

محبت اور محنت کوہ کن نے یہ بھی کی وہ بھیالٹ ہے ایک نقطے کی محبت اور محنت میں

صفیؔ دنیا میں جینے کا مزہ کچھ بھی نہیں پایاہماری عمر کچھ غفلت میں گزری کچھ ندامت میں

— صفی اورنگ آبادی