غزل 13 اشعار

اسے کیا رات دن جو طالب دیدار پھرتے ہیں

Use kya raat din jo talib-e-deedar phirte hain

اسے کیا رات دن جو طالب دیدار پھرتے ہیںغرض ہے تو غرض کے واسطے سو بار پھرتے ہیں

ادھر دیکھو بھلا ہم کو زمانہ کیا نہیں کہتاتو کیا ہر ایک سے کرتے ہوئے تکرار پھرتے ہیں

جو اب وحشت نہیں بھی ہے تو اپنی چال کیوں چھوڑیںجدھر جی چاہے دن بھر رات بھر بے کار پھرتے ہیں

تری خاطر محبت ہو گئی ہے دل کی وحشت سےہمیں آوارہ پن پر آ گیا ہے پیار پھرتے ہیں

تڑپنے لوٹنے کی آج ان تک بھی خبر پہنچیمجھے بدنام کرنے کو مرے غم خوار پھرتے ہیں

اسے ہم مانتے ہیں تو زمانے بھر سے اچھا ہےمگر اچھے بھی اپنے قول سے اے یار پھرتے ہیں

سمجھتے ہیں سمجھنے والے اس کو بھی ریا کاریگلی کوچوں میں کیوں تیرے ستم بردار پھرتے ہیں

تمہیں افسوس کیوں ہے عاشقوں کی کوچہ گردی پرپھراتا ہے مقدر یہ خدائی خار پھرتے ہیں

کہیں ایسا نہ ہو اک روز تم بھی ہم سے پھر جاؤیہاں پہلے ہی اپنی جان سے بیزار پھرتے ہیں

وہ دل کی آرزو اب ہے نہ اس کی جستجو اب ہےہمارے پاؤں میں چکر ہے ہم بے کار پھرتے ہیں

کسی کافر کا گھر تھا یا نہیں معلوم جنت تھیابھی تک میری آنکھوں میں در و دیوار پھرتے ہیں

زمانے سے نرالا ہے چلن ان حسن والوں کالقب تو قاتل عالم ہے بے تلوار پھرتے ہیں

صفیؔ کو تم نے تو کوئی بڑا پہنچا ہوا سمجھااجی رہنے بھی دو ایسے بہت مکار پھرتے ہیں

— صفی اورنگ آبادی