غزل 8 اشعار

شب ہجر آہ کدھر گئی کہوں کس سے نالہ کدھر گیا

Shab-e hijr aah kidhar gayi kahun kis se naala kidhar gaya

شب ہجر آہ کدھر گئی کہوں کس سے نالہ کدھر گیاجو گزر گئی وہ گزر گئی جو گزر گیا وہ گزر گیا

جو تمہاری آنکھ سے گر پڑا جو تمہارے دل سے اتر گیاوہ غریب جیتے جی مر گیا وہ کہاں گیا وہ کدھر گیا

کوئی اپنے بچنے کا ڈھب نہیں کوئی زندگی کا سبب نہیںمرے پاس دل بھی تو اب نہیں وہ ادھر گئے یہ ادھر گیا

کوئی درد ہو تو دوا کروں نہ بنے دوا تو دعا کروںاسے کیا کہوں اسے کیا کروں کہ میں ان کے دل سے اتر گیا

اسے دل لگی کا مزا ملا اسے عاشقی کا مزا ملااسے زندگی کا مزا ملا جو تری اداؤں پہ مر گیا

کوئی دوست ہے کہ غلام ہے کوئی یہ بھی طرز کلام ہےوہ کہاں گیا وہ کہاں گیا وہ کدھر گیا وہ کدھر گیا

ترے ظلم اور ستم سہے ترے جاں نثار بھی ہم رہےنہ رقیب جس کو ہر اک کہے کہ تری جفاؤں سے ڈر گیا

رہے کیوں نہ سینے میں دم خفا یہ نیا ستم ہے نئی جفاکہوں کیا صفیؔ کوئی بے وفا مرے دل کو لے کر مکر گیا

— صفی اورنگ آبادی