غزل 12 اشعار

چھوڑ ہر ایک کو برا کہنا

Chhor har ek ko bura kehna

چھوڑ ہر ایک کو برا کہناایسی صورت پہ تجھ کو کیا کہنا

بے وفاؤں کو با وفا کہناآپ کی بات واہ کیا کہنا

تم نے کیا عیب ہم میں دیکھا ہےدیکھو اچھا نہیں برا کہنا

میں نے کیا کیا کہا ہے لوگوں سےایک بار اور پھر ذرا کہنا

جانتے کب ہیں مجھ کو اپنا دوستمانتے کب ہیں وہ مرا کہنا

مجھ کو غصے سے دیکھ کر نہ رکودل میں جو کچھ بھی آ گیا کہنا

میں محبت میں کیا کروں انصافکوئی انصاف سے ذرا کہنا

آپ کو آج تک نہیں آیاواقعہ سب سے ایک سا کہنا

خوب نقلیں اتارتے ہیں آپآفریں واہ واہ کیا کہنا

کیا کہا میں کبھی نہیں سنتااور پھر اس پہ آپ کا کہنا

ان کو کہنا سلام اے قاصداور دربان کو دعا کہنا

اے صفیؔ ہے ابھی تو دلی دورکون کہتا ہے آ گیا کہنا

— صفی اورنگ آبادی