غزل 17 اشعار

گھڑی بھر آج وہ مجھ سے رہا خوش

Ghari bhar aaj woh mujh se raha khush

گھڑی بھر آج وہ مجھ سے رہا خوشخدا رکھے اسے اس سے سوا خوش

یہ میں جو ہر طرح ناشاد و ناخوشپھر ایسے سے رہے ان کی بلا خوش

کبھی خوش ہے کبھی وہ مجھ سے نا خوشہمیشہ کون دنیا میں رہا خوش

تمہیں تم خوش تو پھر کے لطف صحبتمزہ ملنے کا ہے ہو دوسرا خوش

تمہیں تم خوش تو پھر کیا لطف صحبتمزہ ملنے کا ہے ہو دوسرا خوش

خوشی کی مل گئیں دو چار سانسیںکہ وہ بد عہد آیا خوش گیا خوش

جو وہ باتوں سے خوش کرنے پہ آتےتو ہوتے بندۂ درگاہ کیا خوش

سمجھتے ہیں کہ یہ گستاخ بھی ہےذرا نا خوش ہیں وہ مجھ سے ذرا خوش

کہاں تک ضبط اب کرتا ہوں نالہستم گر خوش رہے مجھ سے کہ نا خوش

در دولت پہ تھے لاکھوں بھکارینہ پلٹا کوئی محروم اور نا خوش

الٰہی بخت تو بیدار بادہعدو نا خوش رہیں اور آشنا خوش

سنی ہے بارہا میری تمناکیا ہے اس نے مجھ کو بارہا خوش

خوشی سے آج اس نے بات کر لیطبیعت ہو گئی بے انتہا خوش

کرو وہ کام جو کل کام آئےچلو وہ چال جس سے ہو خدا خوش

الٰہی دور عثمانی ہو دائمکہ ہے اس عہد میں چھوٹا بڑا خوش

خوشی میری کسی کے ہاتھ میں ہےہوا خوش جو کسی نے کر دیا خوش

صفیؔ میری خوشی و ناخوشی کیارکھا جس حال میں اس نے رہا خوش

— صفی اورنگ آبادی