غزل 10 اشعار

جب ان سے دوستی نہ رہی دشمنی رہی

Jab un se dosti na rahi dushmani rahi

جب ان سے دوستی نہ رہی دشمنی رہیبگڑی تو بگڑی اور بنی تو بنی رہی

صدمہ رہا ملال رہا بے کسی رہیلیکن کسی کی یاد ہمیشہ لگی رہی

کیا کہئے دشمنی رہی یا دوستی رہیبگڑی تو بگڑی اور بنی تو بنی رہی

پھر اس کو دوست جان رہا ہوں ہزار حیفمجھ سے تمام عمر جسے دشمنی رہی

پہلو ہزار ہم نے کئے گرچہ اختیارلیکن جو اس کے دل میں ٹھنی تھی ٹھنی رہی

آئینہ دیکھتا نہیں اپنے سے شرم ہےاچھا ہوا جو مجھ سے اسے بد ظنی رہی

یوسف کو دیں دعائیں زلیخا نے سیکڑوںمحتاج ہو گئی بھی تو دل کی غنی رہی

عاشق کو کوئے یار سے بہتر مقام کیادیوانہ تھا جو قیس کی بن سے بنی رہی

تاریکئ مزار تو مشہور بات ہےکچھ ہم بھی ڈھونڈھ لیں گے اگر روشنی رہی

قدر سخن کے واسطے اب کیا کروں صفیؔداڑھی بڑھائی پھر بھی وہی کم سنی رہی

— صفی اورنگ آبادی