غزل 6 اشعار

چھٹی امید تو میں حال دل کہنے سے کیوں ڈرتا

Chhuti umeed to main haal-e dil kehne se kyun darta

چھٹی امید تو میں حال دل کہنے سے کیوں ڈرتامثل مشہور ہے سرکار مرتا کیا نہیں کرتا

بہت اچھا ہوا دشمن نے مجھ سے دشمنی کر لیسوا میرے نہ جانے اور کس کس کو یہ لے مرتا

اگر دشمن سے ایسے پیش آتے تو مزہ پاتےکروں کیا عرض جو برتاؤ مجھ سے آپ نے برتا

کسی پیماں شکن نے رکتے رکتے بات تو کر لیجو وعدے ہی پہ ہم اڑتے تو یہ کرتا نہ وہ کرتا

نہیں مجھ سے تری بے اعتنائی قابل حیرتغریب انسان دنیا کی نگاہوں میں نہیں بھرتا

صفیؔ نے ٹھوکریں کھا کے بھی اپنی وضع کب بدلیسمجھ والا اگر ہوتا حسینوں سے بہت ڈرتا

— صفی اورنگ آبادی