غزل 6 اشعار

تیرے قول و قرار کی باتیں

Tere qaul-o-qaraar ki baatein

تیرے قول و قرار کی باتیںکچھ نہیں اعتبار کی باتیں

آپ کا منہ ہے ورنہ ہم سنتےدشمن بد شعار کی باتیں

پورا کرنا نہ کرنا وعدے کاہیں ترے اختیار کی باتیں

دیکھنے کو تو بھولے بھالے ہوہیں مگر ہوشیار کی باتیں

کام تیرے دغا فریب کے کامباتیں ایمان دار کی باتیں

آپ کی باتیں اے صفیؔ صاحبسب کی سب ہیں خمار کی باتیں

— صفی اورنگ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں