غزل 8 اشعار

یہ تو سچ ہے کہ صفیؔ کی نہیں نیت اچھی

Yeh to sach hai ke Safi ki nahin niyyat achhi

یہ تو سچ ہے کہ صفیؔ کی نہیں نیت اچھیہاں مگر پائی ہے ظالم نے طبیعت اچھی

کیا ہوا آپ نے پائی ہے جو صورت اچھیآدمی وہ ہے کہ جس کی ہو طبیعت اچھی

آج وہ پوچھنے آئے ہیں ہمارا مطلبسن لیا تھا کہیں مطلب کی محبت اچھی

خوب صورت ہے وہی جس پہ زمانہ ریجھےیوں تو ہر ایک کو ہے اپنی ہی صورت اچھی

کچھ بھی ہو ایک تمنا تو بندھی رہتی ہےتجھ سے سو درجہ ترے ملنے کی حسرت اچھی

نہیں اپنے میں کوئی چاہنے والا تیراڈال دی ڈالنے والوں نے عداوت اچھی

کوئی ارمان نہیں ہے تو فقط بیتابیوصل سے تیرے ستم گر تری فرقت اچھی

ان کے آتے ہی بدل جاتے ہیں تیرے تیوراے صفیؔ چاہیے انسان کی نیت اچھی

— صفی اورنگ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں