غزل 9 اشعار

عشق ان سب سے الگ سب سے جدا ہوتا ہے

Ishq un sab se alag sab se juda hota hai

عشق ان سب سے الگ سب سے جدا ہوتا ہےچیخنے رونے تڑپ لینے سے کیا ہوتا ہے

یاد آتا ہے گلے مل کے ترا پچھتاناہر نئی عید میں یہ رنج نیا ہوتا ہے

جو بھلا کرتا ہے اللہ کے بندوں کے لئےغیب سے اس کا بھی ہر کام بھلا ہوتا ہے

گفت و گو میں یہ نزاکت ہے کہ اللہ اللہایک اک حرف بھی مشکل سے ادا ہوتا ہے

قہر ہوتا ہے حسینوں میں جو ہوتا ہے متیںشوخ ہوتا ہے جو ان میں وہ بلا ہوتا ہے

جینے دیتی ہے کسے پیار کی صورت کافردوست تو دوست ہے دشمن بھی فدا ہوتا ہے

تذکرے حسن کے سن حسن کا دل دادہ نہ بنبعض باتوں کے تو سننے میں مزا ہوتا ہے

مہ جبیں عید میں انگشت نما کیوں نہ رہیںعید کا چاند ہی انگشت نما ہوتا ہے

پھبتیاں غیر پہ کسنے کو ہے موجود صفیؔاور اس پہ کبھی ہنسئے تو خفا ہوتا ہے

— صفی اورنگ آبادی