غزل 13 اشعار

دل جب سے درد عشق کے قابل نہیں رہا

Dil jab se dard-e ishq ke qabil nahin raha

دل جب سے درد عشق کے قابل نہیں رہااک ناگوار چیز ہے اب دل نہیں رہا

وہ میں نہیں رہا وہ مرا دل نہیں رہااب ان کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا

کیا التجائے دید کروں دیکھتا ہوں میںآئینہ بھی ہمیشہ مقابل نہیں رہا

اب وہ خفا ہوئے ہیں تو یوں بھی ہے اک خوشیمرنا ہمارے واسطے مشکل نہیں رہا

دنیا غرض کی رہ گئی اب اس سے کیا غرضچلئے کہ لطف شرکت محفل نہیں رہا

سن سن کے اہل عشق و محبت کے واقعاتدنیا کا کوئی کام بھی مشکل نہیں رہا

دنیا کے نیک و بد پہ مری رائے کچھ نہیںاب تک ادھر خیال ہی مائل نہیں رہا

مجھ سے نہ پوچھو حسرت آرائش جمالآئینہ بن کے ان کے مقابل نہیں رہا

اک ناامید کے لئے اتنا نہ سوچئےآزردہ دل رہا بھی تو بے دل نہیں رہا

وہ جان لے چکیں تو کوئی ان سے پوچھ لےاب تو کچھ اس غریب پہ فاضل نہیں رہا

آیا نہ خواب میں بھی کبھی غیر کا خیالغفلت میں بھی میں آپ سے غافل نہیں رہا

بے بندگی بھی اس کی رہی بندہ پروریملتا رہا اگرچہ میں سائل نہیں رہا

وہ ہاتھ ہیں صفیؔ مجھے اک آستیں کا سانپگردن میں دوست کے جو حمائل نہیں رہا

— صفی اورنگ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں