غزل 15 اشعار

درد فرقت کو کیا کرے کوئی

Dard-e furqat ko kya kare koi

درد فرقت کو کیا کرے کوئیہائے عادت کو کیا کرے کوئی

دل کی حسرت کو کیا کرے کوئیاس مصیبت کو کیا کرے کوئی

پیار کرنے سے عار ہے تو کہواچھی صورت کو کیا کرے کوئی

دوستوں کو تو روکوں شوخی سےساری خلقت کو کیا کرے کوئی

چشم و دل سے چھپاؤں درد نہاںرنگ صورت کو کیا کرے کوئی

اپنے دل کا تو خون کر ڈالوںان کی صورت کو کیا کرے کوئی

ان کا فرمان ہے کہ آہ و فغاںما بدولت کو کیا کرے کوئی

ناصحوں کو سلام بھی کر لوںاس نصیحت کو کیا کرے کوئی

آرزو ہے تو خوف بھی کچھ ہےپاک نیت کو کیا کرے کوئی

تجھ میں جو بات چاہیے وہ نہیںلے کے صورت کو کیا کرے کوئی

وہ خفا ہوں تو میں خطا کر لوںچھیڑ حجت کو کیا کرے کوئی

مہرباں ہیں جناب دل اس پرایسے حضرت کو کیا کرے کوئی

میری تقریر میں تو ہے تاثیرتیری صحبت کو کیا کرے کوئی

نام بھی ان کا ہم نہیں لیتےاب شرارت کو کیا کرے کوئی

اے صفیؔ وہ بگڑ گئے من کرتیری قسمت کو کیا کرے کوئی

— صفی اورنگ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں