غزل 14 اشعار

شوق دربار میں ملتے رہے دربانوں سے

Shauq darbar mein milte rahe darbaanon se

شوق دربار میں ملتے رہے دربانوں سےہم نے آنکھوں سے نہ دیکھا جو سنا کانوں سے

طلب مہر تھی ظاہر مرے ارمانوں سےکہہ گیا ایک ہی قصہ کئی عنوانوں سے

بزم کی شان گھٹی چاک گریبانوں سےجانے بھی دیجے خطا ہو گئی نادانوں سے

محو دیدار ہوئے ہم تو کسی کی نہ سنینور آنکھوں میں جو آیا تو گئے کانوں سے

ان کے آنے کی خبر آئی الٰہی آمینکاش آنکھوں سے بھی دیکھوں جو سنا کانوں سے

قیس و فرہاد کی تقلید ہے آشفتہ سریعاشقی عام ہوئی ایسے ہی نادانوں سے

میں سمجھتا ہوں مجھے آپ نے مہمان کیاکیوں تعارف نہ کرایا گیا مہمانوں سے

صاحب پہچان لئے جاتے ہیں ان کے عاشقآرزؤں سے تمناؤں سے ارمانوں سے

کہیں خودداروں کی وحشت کا پتہ چلتا ہےآستینوں سے گریبانوں سے دامانوں سے

کبھی چھوٹوں سے بڑے کام نکل جاتے ہیںمیل رکھ بار گہہ حسن کے دربانوں سے

درد مندوں پہ ذرا رحم کرو بے دردوضبط فریاد زیادہ تو نہیں جانوں سے

وہ جو انجان ہیں محفل میں تو اپنا بھی سلامہم بھی ملتے نہیں اس طور کے انجانوں سے

منہ پہ بکھرا لئے بال آپ نے سبحان اللہدل لگی دیکھ کے کرتے ہیں پریشانوں سے

اے صفیؔ رنگ جو اپنا ہے اسے کیوں بدلوںتہمتوں سے مجھے اب ڈر ہے نہ بہتانوں سے

— صفی اورنگ آبادی