غزل 15 اشعار

خوش ہوں یا دوست سے خفا ہوں میں

Khush hoon ya dost se khafa hoon main

خوش ہوں یا دوست سے خفا ہوں میںآج کل کچھ نیا نیا ہوں میں

تم پہ سو جان سے فدا ہوں میںتم جسے چاہو اس کو چاہوں میں

ہر ادا پر تری فدا ہوں میںآئنہ بن کے دیکھتا ہوں میں

ان کو یہ آرزو ارے توبہمیں کہوں آرزو بھرا ہوں میں

اے عطا کوش کر عطائی نظراے خطا پوش بے خطا ہوں میں

ابتدا ہی غلط ہے بسم اللہاپنا انجام سوچتا ہوں میں

ایک نادان دوست کی خاطردشمنوں سے ملا ہوا ہوں میں

کسمپرسی ہے خاک ہونے تکخاک ہوتے ہی کیمیا ہوں میں

عشق بازی ہے زندہ در گوریموت سے پہلے مر چکا ہوں میں

کسی صورت بھی کامیاب نہیںکس نراسے کا مدعا ہوں میں

ہجر میں موسم ہجوم گلاور دیوانہ بن گیا ہوں میں

مجھ کو کیوں جانتے ہو مستغنینہیں بندو نہیں خدا ہوں میں

عشق نے کر دیا نکما سااب ترے کام کا بنا ہوں میں

طلب حق ہے ایسے عجز کے ساتھجیسا خیرات مانگتا ہوں میں

ابھی سب کچھ ابھی نہیں کچھ بھیاے صفیؔ کیا بتاؤں کیا ہوں میں

— صفی اورنگ آبادی