غزل 8 اشعار

نہ اپنے بس میں ہے رونا نہ ہائے ہنس دینا

Na apne bas mein hai rona na haaye hans dena

نہ اپنے بس میں ہے رونا نہ ہائے ہنس دیناکوئی رلائے تو رونا ہنسائے ہنس دینا

وہ باتوں باتوں میں بھر آنا اپنی آنکھوں کاوہ اس کا دیکھ کے صورت کو ہائے ہنس دینا

کسی کے ظلم ہیں کچھ ایسے بے محل ہم پرکہ جی میں آتا ہے رونے کی جائے ہنس دینا

وہ خود ہنسائے تو کم بخت دل ضدیلے دلیہ وضع داری ہے کیوں ہائے ہائے ہنس دینا

عدول حکمئ درد جگر کہ اب اے چشمجو لاکھ بار وہ اٹھ کر رلائے ہنس دینا

کوئی جو تجھ پہ ہنسے برق پاش عالم سوزتو پھر ہر ایک پہ تو بھول جائے ہنس دینا

وہ ہم سے پوچھتے ہیں تم ہمارے عاشق ہوجواب کیا ہے اب اس کے سوائے ہنس دینا

صفیؔ کہاں کی شکایت کہاں کا غم غصہکسی کا عین لڑائی میں ہائے ہنس دینا

— صفی اورنگ آبادی