غزل 22 اشعار

سیر چمن ہے اور وہ گل رو کنار میں

Sair-e chaman hai aur woh gul-roo kinaar mein

سیر چمن ہے اور وہ گل رو کنار میںمیں بے پیے بھی مست ہوں اب کی بہار میں

کب سے ہوں کیا بتاؤں تلاش بہار میںاک پھول بھی نہ تھا چمن روزگار میں

چالیں نئی نئی سی ہیں رفتار یار میںپڑ جائے گا خلل روش-روزگار میں

دل اور جان دونوں بھی ہیں کس شمار میںآپ اختیار میں ہیں تو سب اختیار میں

کیوں ناامید آپ کا امیدوار ہوسب کچھ ہے کیا نہیں نگۂ شرمسار میں

مجھ کو جب اپنی بات کا رہتا نہیں خیالکیوں بد ظنی نہ آئے دل رازدار میں

اس سے زیادہ لطف کا طالب نہیں ہوں میںامید بن کے رہ دل امیدوار میں

یا موت آئے گی مجھے یا نیند آئے گیاور ایک شب گزار تو دوں انتظار میں

اے درد عشق بات تو جب ہے کہ میرے دوستمرنے کے بعد چین نہ پاؤں مزار میں

نالہ خلاف وعدہ کیا ہائے کیا کیاسن لے جو وہ تو فرق پڑا اعتبار میں

وہ کیوں بلائیں بزم میں مجھ بد نصیب کوگھل مل کے بیٹھنا نہیں آتا ہے چار میں

میں نے بھی توبہ توڑ دی اپنی تو کیا ہوادنیا کے لوگ کیا نہیں کرتے بہار میں

میرا وقار آپ کا آرام بھی گیاآخر یہ کیا بلا ہے دل بے قرار میں

اک تازہ واردات ہے ہر ایک دم کے ساتھمیرے ارادے آ نہیں سکتے شمار میں

سو مہربانیوں کے عوض مسکرا دیاسرکار نے کمال کیا اختصار میں

ہوگا جب ان کا قہر قیامت ہی آئے گیزندے رہیں گے گھر میں نہ مردے مزار میں

کہتے ہیں لوگ موت سے بد تر ہے انتظارمیری تمام عمر کٹی انتظار میں

نکلے گا اب کے جو بھی ترا اے مغاں نوازپھولوں میں رکھ کے دیں گے تجھے ہم بہار میں

ناصح بھی چارہ گر بھی یہ دو دو عذاب کیوںمنکر نکیر آتے ہیں وہ بھی مزار میں

کھائی ہوئی قسم تو خدا کے لئے نہ کھااپنی طرف سے فرق نہ ڈال اعتبار میں

زاہد کی طرح اور ہیں مسجد میں سیکڑوںیہ کس شمار میں ہے وہاں کس قطار میں

عشق اور آپ واہ صفیؔ واہ واہ واغم اور ہائے زندگئ مستعار میں

— صفی اورنگ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں