غزل 14 اشعار

یوں تو ملنے کو اک زمانہ ملا

Yun to milne ko ek zamana mila

یوں تو ملنے کو اک زمانہ ملانہ ملا ہاں وہ بے وفا نہ ملا

آشنائی میں کچھ مزا نہ ملاآشنا درد آشنا نہ ملا

جب ملے وہ کھچے تنے ہی ملےلطف ملنے کا اک ذرا نہ ملا

ہم نوا سب خزاں کے آتے ہیایسے پتہ ہوئے پتا نہ ملا

کھو کے دل کو ہم اس قدر خوش ہیںجیسے قارون کا خزانہ ملا

شاد کیا ہوں حصول جنت پرکہ رپئے میں سے ایک آنا ملا

عاشقی کیا ہے سچ جو پوچھو توہم کو مرنے کا اک بہانہ ملا

زندگانی تھی یا پریشانیسب کیا اور کچھ مزا نہ ملا

روئیے اس کی بد نصیبی پرڈھونڈھنے پر جسے خدا نہ ملا

مجھ سے ملنے میں کیا برائی ہےآپ کے دل کا مدعا نہ ملا

مل گیا دل جو ہم سے ملنا تھاآنکھ اب ہم سے تو ملا نہ ملا

کھچ کے ملنا بھی کوئی ملنا ہےایک ہے وہ جو یوں ملا نہ ملا

پھر سمائی صفیؔ سے ملنے کیکیوں تمہیں کوئی دوسرا نہ ملا

قدر کرتا ہوں اپنی آپ صفیؔواہ مجھ کو بھی کیا زمانہ ملا

— صفی اورنگ آبادی