غزل 9 اشعار

عشق الزام بھی تو ہوتا ہے

Ishq ilzaam bhi to hota hai

عشق الزام بھی تو ہوتا ہےیہ برا کام بھی تو ہوتا ہے

دوستی کچھ مجھی کو تم سے نہیںیہ مرض عام بھی تو ہوتا ہے

نہیں تکلیف ہی محبت میںاس میں آرام بھی تو ہوتا ہے

وعدہ کرنے میں پھر تأمل کیاہاں تمہیں کام بھی تو ہوتا ہے

رات دن درد ہی نہیں رہتادل کو آرام بھی تو ہوتا ہے

نشۂ حسن اور پھر کب تکبادۂ خام بھی تو ہوتا ہے

نام پر تیرے کیوں نہ آتا پیارپیار کا نام بھی تو ہوتا ہے

کیا تعجب جو ہو وصال میں وصلکام میں کام بھی تو ہوتا ہے

اے صفیؔ عاشقی کی یہ تعریفاور انجام بھی تو ہوتا ہے

— صفی اورنگ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں