6 اشعار

کڑا ہو وقت نظر دور تک نہ آویں ہیں

Kada ho waqt nazar door tak na aavein hain

کڑا ہو وقت نظر دور تک نہ آویں ہیں

«کڑا ہو وقت نظر دور تک نہ آویں ہیں» سجاد رضا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

کڑا ہو وقت نظر دور تک نہ آویں ہیںجو مشکلوں میں پڑیں، تو ہمیں بلُاویں ہیں

ہمیں تو نیند بھی عرصہ ہوا نَہیں آئیتو خواب کاہے یوں دستک کو آویں جاویں ہیں

تمہاری یاد دُھواں بن کے رقص کرتی ہےتمہارے خط ہیں جنھیں رات بھر جلاویں ہیں

اُنہیں بھی آنا ھے اک دن ہمارے آنگن میںھم اُن کی راہ میں پلکیں نہ یوں بچھاویں ہیں

پڑی ہے عمر نہ سوچو کبھی اگر دیکھوکہ کیسے جلتا دیا آندھیاں بجھاویں ہیں

کہ چین آتا نہیں ایک پل بھی روز وشبزمانے بھر کے رضا غم ہمیں ستاویں ہیں

— سجاد رضا