7 اشعار

کتنے بے بس ھیں یہ احساس دلایا سب کو

Kitne be bas hain yeh ehsas dilaya sab ko

کتنے بے بس ھیں یہ احساس دلایا سب کو

«کتنے بے بس ھیں یہ احساس دلایا سب کو» سجاد رضا کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)» میں 3 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

کتنے بے بس ھیں یہ احساس دلایا سب کوزندگی تو نے اشاروں پہ نچایا سب کو

لوگ مرہم نہیں، بس درر بڑھا دیتے ھیںھم نے ہنستا ھوا چہرہ ہی دکھایا سب کو

رتجگے جس کے سُلاتے تھے شہر والوں کواُس کے سونے نے شہر بھر میں جگایا سب کو

کم ظرفوں کو نکالا گیا مئے خانے سےجام تو ایک ہی ساقی نے پلایا سب ک

درد بانٹے ہی نہیں ھم نے زمانے سے کبھیروئے خلوت میں ہی خوشیوں میں بُلایا سب کو

خواب ھے پاس میرے لے گیا تعبیر کوئیخواب میرا تھا جسے میں نے دکھایا سب کو

بھوک سے روتے بلکتے ھوئے بچوں کو رضالوریاں دیتے ھوئے ماں نے سُلایا سب کو

— سجاد رضا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں