7 اشعار

کوئی سُنتا نہی ھے بولیں کیا

Koi sunta nahin hai bolen kya

کوئی سُنتا نہی ھے بولیں کیا

«کوئی سُنتا نہی ھے بولیں کیا» سجاد رضا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

کوئی سُنتا نہی ھے بولیں کیاخودکلامی کو پر ہی تولیں کیا

کس کے دامن پہ لہو کس کاھےسبکومعلوم ھےتودھو لیں کیا

مانتےکیوں نہی کٹھن تھاسفرپاؤں کے آبلے بھی بولیں کیا

جانے پھر تم مِلو، مِلو نہ مِلوتمکوبانہوں میں لےکےرولیں کیا

حق پرستی میں کھڑےتنہاھیںھم زمانے کے سنگ ھو لیں کیا

خون کی بوھے حبس کا موسماب پرندے پروں کو تولیں کیا

رتجگوں کا حساب دے کہ رضاآج مُدّت کے بعد سو لیں کیا

— سجاد رضا