8 اشعار

زندگی ھے اک کشتی جو کہ بادبانی ھے

Zindagi hai ek kashti jo ke baadbaani hai

زندگی ھے اک کشتی جو کہ بادبانی ھے

«زندگی ھے اک کشتی جو کہ بادبانی ھے» سجاد رضا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 46 سیکنڈ ہے۔

زندگی ھے اک کشتی جو کہ بادبانی ھےوقت کی ھواوں نے عمر بھر چلانی ھے

لوٹتے ھیں گھر کو ہی جب سفر مکمل ھوچھوڑ دے گی یہ بدن، روح آسمانی ھے

ناپسند باتوں پر بولتا نہیں ھوں میںخامشی کو سمجھو گرپُوری ترجمانی ھے

اب تمہیں خیال آیا،درد کیا سُنائیں ابآنکھ تک اذیت تھا،گر گیا سو پانی ھے

اُس نے ہر اندھیرے کو نور سے ہی بدلا ھےاے شبِ ظُلمت ٹھہر،روشنی بھی آنی ھے

قید کرکے تم نے بھی کون سی فتح پائیشخص کو ہی روکا ھے،فکر لامکانی ھے

قبر میں صدا آئی،بے حِسی میں جی آئےوہ سفر تمہارا بھی ،سارا رائیگانی ھے

لوگ آج دیکھے ھیں کیا خبر رضا ان کوھم نے آج کی خاطر کتنی خاک چھانی ھے

— سجاد رضا