17 اشعار

محبت بے غرض یا خودغرض ھے

Mohabbat Be-Gharaz Ya Khud-Gharaz Hai

محبت بے غرض یا خودغرض ھے

«محبت بے غرض یا خودغرض ھے» سجاد رضا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 35 سیکنڈ ہے۔

محبت بے غرض یا خودغرض ھےمحبت بے ریا یا بس ریا ھے

یہ ھے بے لوث یا ھے لوث پرورھے سچی مہرباں یا سنگدل ھے

یہ ھے کیا انکساری یا تکبرسخاوت اس کا خاصہ یا بخیلی

عبادت کی ھےصورت یا ہوس ھےمحبت درد مندی

یا کہ ھے ایذا رسانیمحبت کی حقیقت کیا ھے آخر

محبت۔۔۔۔محبت اک صحیفہ ھے

جو پہلی سانس لیتے ھیھمارے دل پہ اُترا ھے

صحیفوں میں تو لکھا ھےریا کاری عبادت خاک کر جائے

تو پھر کیسے ریا کاری محبت ھوحوس میں اور محبت میں

یہ اک تفریق واضح ھےمحبت وصل کے ھونے نہ ھونے سے مُبرّا ھے

حوس ھے یہجو بس اک وصل کی خاطر

ہر اک حد سے گُزر جائےحوس کو ھم محبت کہہ نہیں سکتے

محبت پارسائی ھےیہ اک بے لوث جذبہ ھے

وصل کی خواہشوں سے ماورا ھو کرجسےنہ قول دینا ھے نہ ہی اقرار سننا ھے

بنا شرطوں کے بس جس نےکسی کودل میں رکھنا ھے

جسے محبوب کی خوشیوںمیں خوش رہنے میں راحت ھے

یہی اس کی حقیقت ھےیہی سچی محبت ھے

— سجاد رضا