7 اشعار

محبت کب راویت کا ھمیشہ بار رکھتی ھے

Mohabbat Kab Rawaiyat Ka Hamesha Baar Rakhti Hai

محبت کب راویت کا ھمیشہ بار رکھتی ھے

«محبت کب راویت کا ھمیشہ بار رکھتی ھے» سجاد رضا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

محبت کب راویت کا ھمیشہ بار رکھتی ھےکڑے حالات میں بھی خود ہی مختار رکھتی ھے

بڑی مُدت ھوئی اور آج پھر دیکھا ھے وہ چہرہوہ گزرے کرب کے لمحوں کے سب آثار رکھتی ھے

محبت پھول کی پتی سے بھی نازک سا اک جذبہمگر جب ٹھان لے چٹان سا کردار رکھتی ھے

کسی معصوم سے بچے کی طرح رو بھی پڑتی ھےمحبت درد میں بچوں سا ہی اظہار رکھتی ھے

محبت بانٹتی خوشبو ھے نفرت کی زمینوں پرمگر یہ راستے اپنے بڑے پر خار رکھتی ھے

اسے کیا مات کہ رہتی ھے زندہ داستانوں میںیہ کیسا معجزہ اپنا درون ِھار رکھتی ھے

رضا آیا نہیں کوئی پھر اس کے بعد ورنہ تومحبت آج بھی کچا گھڑا اس پار رکھتی ھے

— سجاد رضا