19 اشعار

محبت کی حقیقت

Mohabbat Ki Haqiqat

محبت کی حقیقت

«محبت کی حقیقت» سجاد رضا کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 31 سیکنڈ ہے۔

محبت کی حقیقتمحبت بے غرض یا خودغرض ھے

محبت بے ریا یا بس ریا ھےیہ ھے بے لوث یا ھے لوث پرور

ھے سچی مہرباں یا سنگدل ھےیہ ھے کیا انکساری یا تکبر

سخاوت اس کا خاصہ یا بخیلیعبادت کی ھےصورت یا حوس ھے

محبت درد مندی یا کہ ھے ایذا رسانیمحبت کی حقیقت کیا ھے آخر

محبت۔۔۔۔محبت اک صحیفہ ھے

جو پہلی سانس لیتے ھیھمارے دل پہ اُترا ھے

صحیفوں میں تو لکھا ھےریا کاری عبادت خاک کر جائے

تو پھر کیسے ریا کاری محبت ھوحوس میں اور محبت میں

یہ اک تفریق واضح ھےمحبت

وصل کے ھونے نہ ھونے سے مُبرّا ھےحوس ھے یہ

جو بس اک وصل کی خاطرہر اک حد سے گُزر جائے

حوس کو ھممحبت کہہ نہیں سکتے

محبت پارسائی ھےیہ اک بے لوث جذبہ ھے

وصل کی خواہشوں سے ماورا ھو کرجسےنہ قول دینا ھے

نہ ہی اقرار سننا ھےبنا شرطوں کے بس جس نے

کسی کودل میں رکھنا ھےجسے محبوب کی خوشیوں

میں خوش رہنے میں راحت ھےیہی اِس کی حقیقت ھے

یہی سچی محبت ھے

— سجاد رضا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں