8 اشعار

پھر سے میں بچہ ھوجاوں جی کرتا ھے

Phir Se Main Bachcha Ho Jaun Ji Karta Hai

پھر سے میں بچہ ھوجاوں جی کرتا ھے

«پھر سے میں بچہ ھوجاوں جی کرتا ھے» سجاد رضا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

پھر سے میں بچہ ھوجاوں جی کرتا ھےریت کے پھر سے محل بناوں جی کرتا ھے

ماں کی گود ہی جادو کا اک بستر تھیکسی طرح اب اس کو پاوں جی کرتا ھے

کل بابا کا ھاتھ پکڑ کر چلتا تھاان ھاتوں کو ھاتھ لگا وں جی کرتا ھے

جن یاروں سے جیت کے اتراتا تھا بہتان کو اپنی ھار سناوں جی کرتا ھے

استادوں کی مار کے اندر پیار چھپا تھااب میں ان سے کان کچھاوں جی کرتا ھے

آج بھی امی پیسے دیں اور سالگرہ پرگھر گلیاں دیوار سجاوں جی کرتا ھے

ماں سے اکثر حال چھپایا کرتا تھااب میں دل کا حال سناوں جی کرتا ھے

کھول کے سب صندوق رضا میں یادوں کےخلوت میں اک شہر بساوں جی کرتا ھے

— سجاد رضا