15 اشعار

‏اداسی بس میں تھوڑی ہے

Udasi Bas Mein Thodi Hai

‏اداسی بس میں تھوڑی ہے

«‏اداسی بس میں تھوڑی ہے» سجاد رضا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

‏اداسی بس میں تھوڑی ہےکہ دل کو ڈانٹ کر کہہ دیں

ہمیشہ خوش رہا جائےچلو ایسا بھی گر کر لیں

کہیں سے مسکراہٹ کولبوں تک لے بھی آئیں تو

اداس آنکھیں نہیں چُھپتیںاور

ایسے میں اگرلکھیں گے

اداسی اس میں جھلکے گیاداسی بس میں تھوڑی ہے

بس اتنا زور چلتا ھےجو ہنستے ہیں دکھاوا ہے

دکھاوا بھی کبھی مجبوریوں میں کرنا پڑتا ھےکئی رشتوں بچانے کو

کئی جذبےچھپانے کوسو تھوڑا ھم بھی کرتے ہیں

فقط جھوٹا ہی ہنستے ہیںمگر جب نظم لکھتے ہیں

ہماری بے بسی پر پھرسبھی الفاظ روتے ہیں

جو ظاہر کرنہی سکتےکبھی اپنے رویوں سے

اُنہی جذبات کو تفصیل سےنظموں میں لکھتے ھیں

قلم تو دل کے اندر کی اُداسی بھانپ لیتا ھےاسے اس سے چھپانا بھی

ھمارے بس میں تھوڑی ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

— سجاد رضا