20 اشعار

آخری پڑاؤ

Aakhiri Padaao

شاید میری زمیناپنے سفر کے آخری پڑاؤ سے آگے نکل چکی ہے

منزل پر جلتے ہوئے فلک بوس الاؤ کی حدت کچھ اتنی تیز ہےکہ درختوں کے جڑوں سے لے کر

شاخوں کے سروں پر آنے والا بور تکپسینے اور گرمی سے ہانپ رہا ہے

وقت کی کٹھالی میں ابلتے ہوئے حالات کے ساتھاب کے کسی عقل مند نے ہوا کے ہاتھ پر رکھے ہوئے

تمام موسم بھی اٹھا کر ڈال دیئے ہیںمجھے یاد ہے کہ شعور کی پہلی سیڑھیوں پر پاؤں رکھتے ہی

کس عصبیتی لمحے نےمیرے کانوں میں سرگوشی کی تھی

کہ تم اپنے باپ کی پیدائش سے بھی بہت پہلے گروی رکھ دیئے گئے تھےمیں اس دن سے لے کر آج تک بہی کھاتوں کے

قرض والے خانے سے نہیں نکل سکااور میرے ہاتھوں میں اتنی بے اختیاری بھر دی گئی ہے

کہ میرے گھر کے دروازے کی چابیاں ہر روز پھسلتی ہوئیمیری انگلی کی آخری پور پر آ جاتی ہیں

اور میں دہشت ناک آنکھوں سے خلا میں دیکھنے لگتا ہوںکہ جیسے دور غلامی کے سیاہ منظر

آدھے سے زیادہ درسی کتابوں سے باہر نکل آئے ہیںخوف کے لمبے ناخنوں نے خاک زادوں کے بدن کی مٹی ایسے کھرچ دی ہے

جیسے مکانوں کی دیواروں کا کچا رنگتیز بارشوں میں اتر کر نالیوں میں بہہ جاتا ہے

گھروں محلوں اور سڑکوں پر نادیدہ دیواریں اتنی اونچی اٹھا دی گئی ہیںکہ ہم اکٹھے رہتے ہوئے ایک ساتھ چلتے ہوئے بھی

ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکتےاور کیا کہوں کہ اس سال دیکھنے سننے اور بولنے پر بھی نمکیں لگا دیا گیا

جیسے ہم سب اپنے اپنے بدن میں تنہا کر کے مار دیئے جائیں گےوہ عہد زیادہ دور نہیں

جب ہمیں کوئی نسل موہنجودڑو اور ہڑپا کی طرح دریافت کرے گیسوچ رہا ہوں کہ ہمیں کتنے فٹ گہرا کھود کر نکالا جائے گا

اور پھر میوزیم میں رکھی ہوئی شیشے کی المایوں میںپرانی ہڈیوں کے نیچے یہ تحریر جب کوئی سیاح رکھ کر پڑھے گا

کہ یہ اس دور کا انسان تھا جب ترقی اپنے نقطہ عروج سے بھی آگے تھیمگر تعلیم یافتہ اس معاشرے کے لوگ غاروں میں رہنے والوں سے زیادہ تہذیب یافتہ تھے

یہ ایک شاعر تھاجو احساس کی قبر میں

اپنی موت سے پہلے دفن کر دیا گیا

— سلیم فگار