15 اشعار

مشورہ

Mashwara

تو چھن گیا تو لگا جیسےلکیریں میری ہتھیلی کے کاغذ سے گر گئی ہیں

اور ہاتھ کفن سے زیادہسفید ہو گئے ہیں

اب جانے کون سے لمحے کی پر کارلائینوں کی عبارت دوبارہ لکھے

میں نے جیت ادھار تو نہیں مانگی تھیہجر کسی ظالم چودھری کی طرح

تمام وصل کا اناج اٹھا کر لے گیا ہےاور بھوک جسم پہ بالوں کی طرح اگنے لگی ہے

وقت سے میرا مذاق کبھی نہیں رہاپھر جانے کیوں

سب یہ مجھ سے کسی بہت قریبی دوست کی طرحکھیلتا رہتا ہے

تیرے آنسو میری آنکھوں کونرگس کا سونپ کر گئے ہیں

جانے سرخ گلاب کا ذائقہ بینائی کب چکھےسنو

رستے ابھی اپنے مسافر بھولے نہیںلوٹ آؤ

ورنہ معلوم ہے تمہیںاب نیا گھر بنتے دیر نہیں لگتی

رستے سکڑی ہوئی کلیاںاور کھیت صحن بننے سے پہلے چلے آؤ

کہ طویل دوریاںاپنے محور سے ہٹنے کے مترادف ہیں

اور مدار سے نکلے ہوئے چاندایک دن اخبار کی سرخی بن کر

باقی ردی کے بھاؤ بکتے ہیں

— سلیم فگار