12 اشعار

بس لوٹ آنا

Bas laut aana

سچائیاں اپنے وقت میںکبھی جی نہیں پاتیں

سو آنکھوں نے ہمیشہلمحوں سے دھوکے کھائے

تمہیں کیسے رخصت کروںکہ یہ بات امام ضامن اور دعا سے

بہت آگے بہت آگے ہےہتھیلیوں کے گرداب پھسلتے پھسلتے

بینائی کی دہلیز پہ آ بیٹھے ہیںانگلیاں کانوں کو کہاں تک دستک سے دور رکھیں گی

دعاؤں کی چھتری میں اکثرسوراخ رہ جاتے ہیں

میں تمہیں کون سی چادر تحفہ دوںکہ آج کل جولاں ہے

عزت سے زیادہ کاغذ کمانے کے چکر میں ہیںمیں نے مٹھی کھول کر دیکھی

تو سب لکیروں سے زیادہ بانجھ نکلیںمیرے پاس سبز نہیں ہیں

کہ زرد پتوں کی وسعت نے خاک سے نیل تکسرسوں کا موسم کا شت کر رکھا ہے

میرے پاس کچھ بھی نہیںبس لوٹ آنا

کہ تمہارے آنے تکمیری آنکھیں تیرگی کی سلاخوں میں قید رہیں گی

— سلیم فگار