6 اشعار

شفیق موسموں کو ہم نے رو سیاہ کیا

Shafiq mausamon ko hum ne ro siyah kiya

شفیق موسموں کو ہم نے رو سیاہ کیازمیں کو گردشوں کا مرکز نگاہ کیا

پکڑ کے خود کو گلے سے سوال کرتا ہوںہرا بھرا یہ جہاں کس لیے تباہ کیا

جبیں کو چوم کے میں نے الوہی لمحوں میںتمہارے دل کو محبت کی بارگاہ کیا

عذاب آ گیا سر پر تو اب گلہ کیساتمہیں ہوا نے کئی بار انتباہ کیا

بنائیں ہاتھ کو کاسہ تو حیرتیں کیسیہمی نے دزد فقیروں کو بادشاہ کیا

مراد مانگتی ہیں روز چوم کر چہرہجوان بیٹوں کو ماؤں نے خانقاہ کیا

— سلیم فگار