19 اشعار

بنت حوا

Bint-e-Hawwa

تم سے صرف ایک بار جنمی گئی ہوںمگر تم تو آج تک

مجھ سے جنم لے رہے ہوپھر میں محض اک سایا بن کر کیوں رہ گئی

وجود کیوں نہیں بنیمیرا پڑاؤ ہمیشہ

تمہارے انگوٹھے کے نیچے کیوں رکھا گیا ہےمیں تمہارے نام کی سل

اپنے بدن سے ہٹا کرکھلی ہوا میں منہ بھر کر سانس لینا چاہتی ہوں

باپ بھائی شوہر اور بیٹے کے گھر کے علاوہمیرا اپنا وطن بھی تو ہونا چاہیے

قیدی آنکھوں میں التجا کے پھول لیےاجازتوں کے راہ تکتے تکتے پنکھڑیاں سوکھ کر

میری روح میں کانٹوں کی طرح چھینے لگی ہیںخدارا میری آنکھوں کو زمین سے اتنا کس کر نہ باندھو

کہ میں آسمان کے رنگ دیکھا چاہتی ہوںاور تمہاری آنکھوں میں

سلگتی ہوئی اندھی انا کی چنگاریوں کواپنی روپہلی محبتوں کی پھوار سے سرد کرنا چاہتی ہوں

پیروں سے اٹھ کرمیرے دل میں تمہارے ساتھ چلنے کی خواہش ہے

اور تم مجھے کئی رشتوں کی طنابوں میں جکڑ کر بھیمیری اڑان سے خوف زدہ ہو

یہ جان کر بھیکہ اگر پرندوں کے پر کاٹ دیے جائیں

تو پھر ان کے لیے پنجروں کی ضرورت باقی نہیں رہتیمنتوں کے درد کرتے کرتے

میری زبانوں کا گوشت گلنے لگا ہےچلو حکم نہ سہی کم از کم

مجھے اپنی بات کرنے کی تو آزادی ہوتمہاری کہنہ روایات کی بیڑیاں

پنڈلیوں کا گوشت کاٹ کراب میری ہڈیاں چبانا چاہتی ہیں

میں منہ کے بل گری یا معذور ہوئیتو احتجاجاً بانجھ ہو جاؤں گی

اور اگر میں بانجھ ہوئی تو اپنے جنم کے لئےآئندہ صدی کے کس کی کھو میں اترو گے

— سلیم فگار