23 اشعار

زمیں زاد

Zameen Zaad

جنون حاکمیت خود پسندی کا یہ لاواکیوں ابلتا اور بہتا جا رہا ہے

ساری دھرتی پرکہاں سے حکم آتا ہے

یہ کیسی سوچ کے پیرائے میںتم ڈھالے جاتے ہو

کہ نفرت اور گہری ہو رہی ہےزمیں زادو

بدن دھرتی میں بونے سےفقط قبریں ہی اگتی ہیں

لہو بہتا رہا تومہر و وفا احساس کے

سب بہتے دریا سوکھ جائیں گےزمیں زادو

یہ کیسے خوف کے اندھے کنوئیں میںقید ہیں سارے

کہ اک دوجے سے بچنے کے لیےہم بم بناتے ہیں

اور اک دوجے پہ شب کی تیرگی میںوار کرتے ہیں

زمیں زادوزمیں تقسیم کر کے

سرحدیں کس نے بنائی ہیںوہ دن بھی آنے والا ہے

پرندوں کے لئے بھیجب کوئی قانون آئے گا

سپاہی فاختاؤں کے پروں کو بھی ٹٹولیں گےپرندے دل میں سوچیں گے

ہمیں انسان نےکیوں اپنی صف میں کر لیا شامل

یہ کس نے حق دیا ہے اس کوہمیں اپنی طرح سمجھے

ہمیں اپنی طرح سوچےزمیں زادو

خلا کا زخم بڑھتا جا رہا ہےپہاڑوں کی سفیدی میں پگھل کر

اب ندی کی آنکھ سی بہنے لگیکبھی منظر دھوئیں میں

قید ہوتے جا رہے ہیںزمیں زادو

گلوں سے تتلیاں اور تتلیوں سے باغ مت چھنیوکہ اب تو شرم آتی ہے

مری پہچان ہونے پرمجھے انسان ہونے پر

زمیں زادو

— سلیم فگار