7 اشعار

بدن سے روح رخصت ہو رہی ہے

Badan se rooh rukhsat ho rahi hai

بدن سے روح رخصت ہو رہی ہے

«بدن سے روح رخصت ہو رہی ہے» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

بدن سے روح رخصت ہو رہی ہےمکمل قید غربت ہو رہی ہے

میں خود ترک تعلق پر ہوں مجبورکچھ ایسی ہی طبیعت ہو رہی ہے

جفا ان کی دل زود آشنا پربہ مقدار محبت ہو رہی ہے

خدا سے مل گیا ہے حسن کافرخدائی پر حکومت ہو رہی ہے

نہیں تنہائی زنداں مکملمجھے سایہ سے وحشت ہو رہی ہے

یہ تم ہنس ہنس کے باتیں کر رہے ہوکہ تقسیم جراحت ہو رہی ہے

اگر مشرب نہیں بدلا ہے سیمابؔتو کیوں تجدید بیعت ہو رہی ہے

— سیماب اکبر آبادی