6 اشعار

کمال علم و تحقیق مکمل کا یہ حاصل ہے

Kamal-e-ilm o tehqeeq-e-mukammal ka yeh hasil hai

کمال علم و تحقیق مکمل کا یہ حاصل ہے

«کمال علم و تحقیق مکمل کا یہ حاصل ہے» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

کمال علم و تحقیق مکمل کا یہ حاصل ہےترا ادراک مشکل تھا ترا ادراک مشکل ہے

یہ ویرانی تصور کی وہ رنگینی خیالوں کیکبھی محفل میں خلوت ہے کبھی خلوت میں محفل ہے

وہ آئینہ ہو یا ہو پھول تارہ ہو کہ پیمانہکہیں جو کچھ بھی ٹوٹا میں یہی سمجھا مرا دل ہے

اجالا ہو تو ڈھونڈوں دل بھی پروانوں کی لاشوں میںمری بربادیوں کو انتظار صبح محفل ہے

وہ دل لے کر ہمیں بے دل نہ سمجھیں ان سے کہہ دیناجو ہیں مارے ہوئے نظروں کے ان کی ہر نظر دل ہے

وہ اے سیمابؔ کیوں سرگشتۂ تسنیم و جنت ہومیسر جس کو سیر تاج ہے جمنا کا ساحل ہے

— سیماب اکبر آبادی