9 اشعار

چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہے

Chamak jugnu ki barq-e-be-amaan maloom hoti hai

چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہے

«چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہے» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہےقفس میں رہ کے قدر آشیاں معلوم ہوتی ہے

کہانی میری روداد جہاں معلوم ہوتی ہےجو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے

سحر تک سعیٔ نالہ رائیگاں معلوم ہوتی ہےیہ دنیا تو بقدر یک فغاں معلوم ہوتی ہے

کسی کے دل میں گنجائش نہیں وہ بار ہستی ہوںلحد کو بھی مری مٹی گراں معلوم ہوتی ہے

خزاں کے وقت بھی خاموش رہتی ہے فضا ساریچمن کی پتی پتی راز داں معلوم ہوتی ہے

ہوائے شوق کی قوت وہاں لے آئی ہے مجھ کوجہاں منزل بھی گرد کارواں معلوم ہوتی ہے

ترقی پر ہے روز افزوں خلش درد محبت کیجہاں محسوس ہوتی تھی وہاں معلوم ہوتی ہے

قفس کی تیلیوں میں جانے کیا ترکیب رکھی ہےکہ ہر بجلی قریب آشیاں معلوم ہوتی ہے

نہ کیوں سیمابؔ مجھ کو قدر ہو ویرانئ دل کییہ بنیاد نشاط دو جہاں معلوم ہوتی ہے

— سیماب اکبر آبادی