5 اشعار

کھو کر تری گلی میں دل بے خبر کو میں

Kho kar teri gali mein dil be-khabar ko mein

کھو کر تری گلی میں دل بے خبر کو میں

«کھو کر تری گلی میں دل بے خبر کو میں» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

کھو کر تری گلی میں دل بے خبر کو میںفکر خودی سے چھوٹ گیا عمر بھر کو میں

سازش بقدر ربط تھی طور و جمال میںسمجھا ہوں آج عقدۂ سنگ شرر کو میں

اب ہے تو مستقل ہو فروغ شب وصالایسا نہ ہو چراغ جلاؤں سحر کو میں

صحرا سے بار بار وطن کون جائے گاکیوں اے جنوں یہیں نہ اٹھا لاؤں گھر کو میں

جھوما کیا سرور سے سیمابؔ رات بھردیکھا کیا کسی کی نشیلی نظر کو میں

— سیماب اکبر آبادی