بقدر شوق اقرار وفا کیا
بقدر شوق اقرار وفا کیاہمارے شوق کی ہے انتہا کیا
دعا دل سے جو نکلے کارگر ہویہاں دل ہی نہیں دل سے دعا کیا
ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی
مہمان شاعر: سیماب اکبر آبادی
بقدر شوق اقرار وفا کیاہمارے شوق کی ہے انتہا کیا
دعا دل سے جو نکلے کارگر ہویہاں دل ہی نہیں دل سے دعا کیا
عشق خود مائل حجاب ہے آجحسن مجبور اضطراب ہے آج
مے کدہ غم کدہ ہے تیرے بغیرسرنگوں شیشۂ شراب ہے آج
جگنوادھر آؤ اے میرے نادان بچے
کروں گا میں دو چار باتیں تمہیں سےہو مصروف کیوں کھیلنے میں تم ایسے
دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میںاک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں
دنیا کرے تلاش نیا جام جم کوئیاس کی جگہ نہیں مرے جام سفال میں
ہستی کو مری مستئ پیمانہ بنا دےاے بے خبری حاصل مے خانہ بنا دے
طالب ہوں میں اس ایک نگاہ دو اثر کاجو ہوش میں لا کر مجھے دیوانہ بنا دے