مزدور
کلام: سیماب اکبر آبادی
گرد چہرے پر پسینے میں جبیں ڈوبی ہوئیآنسوؤں میں کہنیوں تک آستیں ڈوبی ہوئی
پیٹھ پر نا قابل برداشت اک بار گراںضعف سے لرزی ہوئی سارے بدن کی جھریاں
ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی
مہمان شاعر: سیماب اکبر آبادی
گرد چہرے پر پسینے میں جبیں ڈوبی ہوئیآنسوؤں میں کہنیوں تک آستیں ڈوبی ہوئی
پیٹھ پر نا قابل برداشت اک بار گراںضعف سے لرزی ہوئی سارے بدن کی جھریاں
کاش حاصل ہو حقیقی زندگی کا ایک دنسر خوشی کا ایک لمحہ یا خوشی کا ایک دن
کر دیا ہے شورش عالم نے دیوانہ مجھےہے بساط دہر وحشت ناک ویرانہ مجھے
جو میرے تنگنائے دل میں تجھ کو جلوہ گر دیکھامری نظروں نے حیرت سے مجھی کو عمر بھر دیکھا
تصور کی حدوں میں بھی سمانا جن کا مشکل تھانظر والوں نے ان جلووں کو تا حد نظر دیکھا