6 اشعار

دل پر وفا کا بوجھ اٹھاتے رہے ہیں ہم

Dil par wafa ka bojh uThate rahe hain hum

دل پر وفا کا بوجھ اٹھاتے رہے ہیں ہماپنا ہر امتیاز مٹاتے رہے ہیں ہم

منہ پر جو یہ جلے ہوئے دامن کی راکھ ہےشعلوں میں زندگی کے نہاتے رہے ہیں ہم

اتنا نہ کھل سکا کہ ہوا کس طرف کی ہےسارے جہاں کی خاک اڑاتے رہے ہیں ہم

آنکھوں سے دل تک ایک جہان سکوت ہےسنتے ہیں اس دیار سے جاتے رہے ہیں ہم

تیرا خیال مانع عرض ہنر ہواکس کس طرح سے جی کو جلاتے رہے ہیں ہم

کس کی صدا سنی تھی کہ چپ لگ گئی شہابؔساتوں سروں کا بھید گنواتے رہے ہیں ہم

— شہاب جعفری