7 اشعار

یاد اس کی ہے کچھ ایسی کہ بسرتی بھی نہیں

Yaad us ki hai kuch aisi ke bisarti bhi nahin

یاد اس کی ہے کچھ ایسی کہ بسرتی بھی نہیںنیند آتی بھی نہیں رات گزرتی بھی نہیں

زندگی ہے کہ کسی طرح گزرتی بھی نہیںآرزو ہے کہ مری موت سے ڈرتی بھی نہیں

بس گزرتے چلے جاتے ہیں مہ و سال امیددو گھڑی گردش ایام ٹھہرتی بھی نہیں

دور ہے منزل آفاق دکھی بیٹھے ہیںسخت ہے پاؤں کی زنجیر اترتی بھی نہیں

سن تو سائل نہیں ہم خاک نشین گمراہاے صبا تو تو ذرا دیر ٹھہرتی بھی نہیں

شام ہوتی ہے تو اک اجنبی دستک کے سوادل سے پہروں کوئی آواز ابھرتی بھی نہیں

زندگی تو بھی کوئی موج بلا کیوں نہ سہیایک ہی بار مرے سر سے گزرتی بھی نہیں

— شہاب جعفری